شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے تو مریدین بھی آپ کے ساتھ تھے یہ جب بھی کسی منزل پر اترتے ان کے پاس سفید کپڑے پہنے ہوئے ایک جوان آجاتا مگر نہ تو وہ ان کے پاس کھاتا تھا نہ پیتا تھا اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مریدوں کو تاکید کی ہوئی تھی کہ کوئی اس جوان سے بات چیت نہ کرے چنانچہ جب یہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو ایک گھر میں قیام فرمایا۔ لیکن جب یہ لوگ گھر سے نکلتے تو وہ گھر میں داخل ہوتا اور جب یہ داخل ہوتے تو وہ نکل جاتا تھا ایک مرتبہ سب لوگ نکل گئے مگر بیت الخلاء میں ایک شخص باقی رہ گیا تھا ۔ اسی دوران وہ جوان داخل ہوا جب کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا تھا اس نے تھیلی کھولی اور ایک مینگنی نکال کا کھانا شروع کردی تو وہ شخص بیت الخلاء سے نکلا اور اس کی نظر اس پر پڑ گئی تو وہ جوان وہاں سے چلا گیا پھر کبھی بھی واپس نہیں آیا تو اس شخص نے حضرت کو اس کی اطلاع کی تو آپ نے فرمایا یہ جوان ان جنات میں سے تھا جنہوں نے آنحضرتﷺ سے قرآن پاک سنا تھا (اور جنات میں شرف صحابیت حاصل کیا تھا)۔(ارجوزۃ الجان لابن عماد، تاریخ جنات و شیاطین: 296)
قرآن مجید میں ایک پوری سورت ہے سورۃ جن کے نام سے اس میں اللہ تعالی نے اس جنات کے قرآن سننے کے واقعے کو ذکر فرمایا ہے ۔ اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے صحابہ کرام کو ہڈی اور لید وغیرہ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی یہ جنات کو غذا ہوتی ہے۔

Please follow and like us:
0