عن جابر رضی اللہ عنہ قال اتی النبی ﷺ بجنازۃ رجل لیصلی فلم یصل علیہ فقیل یا رسول اللہ ما رأیناک  ترکت الصلاۃ علی احد قبل ھذا قال انہ کان یبغض عثمان فابغضہ اللہ (رواہ الترمذی)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے پاس ایک آدمی کا جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں تو حضورﷺ نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تو ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ اس سے پہلے آپ نے کسی کا جنازہ پڑھانے سے انکار نہیں کیا آج کیا وجہ ہو گئی اس کا جنازہ کیوں نہیں پڑھایا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا یہ آدمی عثمان (رضی اللہ عنہ)  سے نفرت کرتا تھا لہذا اللہ تعالی بھی اس سے نفرت کرتے ہیں۔ (ترمذی)
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ تعالی نے بہت سی خصوصیات سے نوازا تھا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں ایک دفعہ حضورﷺ گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور حضورﷺ کی تہبند پنڈلی سے اوپر ہوئی ہوئی تھی اتنے میں حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی تو حضورﷺ نے اجازت دے دی اور اسی طرح لیٹے رہے اور اسی حال میں حضرت ابوبکر سے بات چیت ہوتی رہی کچھ دیر بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے آپ نے ان کو بھی اجازت دے دی وہ بھی اندر تشریف لائے اور حضورﷺ اسی حال میں ان سے بات چیت فرماتے رہے اتنے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور حاضری کی اجازت چاہی تو  آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو ٹھیک کیا اور اس کے بعد ان کو اجازت دی وہ اندر آئے اور حضورﷺ سے بات چیت کرتے رہے جب سارے حضرات چلے گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ حضرت ابوبکر آئے آپ اسی طرح لیٹے رہے اور ذرا بھی پروا نہیں کی حضرت عمر آئے تو پھر آپ اسی طرح رہے اور کوئی پروا نہیں کی عثمان آئے تو آپ اٹھ کے بیٹھے اور کپڑے بھی درست کئے اس کی کیا وجہ سے تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا
’’الا استحیی ممن تستحیی منہ الملائکۃ ‘‘
میں اس سے کیوں حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں
صلح حدیبیہ کے موقع پر طرفین سے مذاکرات چلتے رہے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے پاس اپنے اپنے قاصد بھیجتے رہے حضورﷺ نے اپنی طرف سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قاصد بنا کر مشرکین مکہ سے مذاکرات کے لئے بھیجا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ واپس آنے لگے تو مشرکین نے خود عرض کیا کہ آپ مکہ میں آچکے ہیں لہذا آپ طواف کرتے جائیں تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضورﷺ کو طواف سے روک دیا گیا ہو اور میں طواف کرلوں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

Please follow and like us:
0