عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال ذکر رسول اللہ فتنہ فقال یقتل ہذا فیھا مظلوما لعثمان  (رواہ الترمذی)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضورﷺ نے ایک فتنے کا ذکر فرمایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر کے ارشاد فرمایا کہ یہ اس فتنے میں بے گناہ مارا جائے گا ۔ (ترمذی)

یہ حضورﷺ کی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں پیشنگوئی تھی  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر کوئی بھی مسلمان کسی مسلمان پر ظلم کرے یا اسے قتل کرنا چاہے تو  وہ خود خاموشی سے اس ظلم کو سہہ خود قتل ہو جائے لیکن اپنے ہاتھ سے کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچائے اور نہ ہی اس کو قتل کرے اگرچہ وہ خود اس پر ظلم کرنے اور قتل کرنے کے لئے تیار بیٹھا ہو۔

جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا گھیرائو کر لیا اس وقت حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور مشورے کے طور پر ان سے عرض کیا کہ میں آپ کے سامنے تین آپشن رکھتا ہوں جس سے ان فتہنہ بازوں سے آپ کی جان بچ سکتی ہے ۔

۱۔       آپ ہمیں اجازت دیں ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور ان کو مار بھگائیں گے۔

۲۔       آپ کے لئے ہم گھر کی پچھلی طرف سے خفیہ راستہ بنا دیں گے اور آپ یہاں سے نکل کر مکہ چلے جائیں وہاں یہ خون خرابے کو حلال نہیں سمجھیں گے اور آپ کی جان بچ جائے گی۔

۳۔      شام میں آپ کے شیدائی اور آپ کے بہترین ساتھی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ موجود ہیں وہاں چلے جائیں۔

حضرت عثمان رضی اللہ نے فرمایا

۱۔       میں تمہیں ان کے ساتھ لڑائی کی اجازت نہیں دے سکتا میں نہیں چاہتا کہ حضورﷺ کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد مسلمانوں کا قتل کرنے والا سب سے پہلا آدمی میں بنوں۔

۲۔       حضورﷺ نے فرمایا کہ تھا کہ ایک قریشی آدمی مکہ میں فتنے کا سبب بنے گا اس پر اللہ تعالی کی لعنت ہو گی ۔ اگر میں یہاں سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور یہ لوگ وہاں بھی پہنچ گئے تو مکہ میں فتنے کا سبب بننے والا میں ہوں گا اور اس وعید کے اندر داخل ہو جائوں گا ۔

۳۔      میں حضورﷺ کے پڑوس کو نہیں چھوڑ سکتا۔

Please follow and like us:
0