اللہ تعالی فرماتے ہیں

ان الشیطان لکم عدو مبین O

شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے

خدا کے دشمن ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو وسوسہ ڈالنے کے لئے جنت میں داخل ہونا چاہا لیکن جنت کے گارڈز نے اس کو روک دیا تو شیطان مختلف جانوروں کے پاس گیا کہ مجھے کسی طرح سے چپھا کے جنت میں داخل کردو کوئی بھی جانور اس کام کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اس زمانے میں سانپ کی چار ٹانگیں ہوتی تھیں اور یہ اونٹ کی طرح دراز قد ہوتا تھا اور یہ تمام جانوروں میں سب سے خوبصورت تھا۔ تو شیطان سانپ کے پاس گیا اور کہا کہ میں تجھے انسان کی ایذا سے بچاؤں گا اگر تو مجھے جنت میں لے جائے تو تو میرے ذمہ ہے میں تیری حفاظت کروں گا تو سانپ نے ابلیس کو اپنے دانتوں سے اٹھایا ابلیس سانپ کے منہ میں اندر جا کر چھپ گیا اور یہ سانپ جنت میں داخل ہو گیا اور فرشتوں کو اس کے منہ میں بیٹھے شیطان کا پتہ نہیں چل سکا اور پھر شیطان نے سانپ کے منہ کے اندر سی ہی حضرت حواء علیھا السلام سے بات کر کے ان کو ورغلایا تھا۔

(تفسیر طبری، تاریخ جنات و شیاطین : 313)

Please follow and like us:
0