قل یٰعبادی الذین اسرفو علی انفسھم لا تقنطو من رحمت اللّٰہ ط ان اللّٰہ یغفر الذنوب جمیعا ط انہ ھو الغفور الرحیمO (الزمر: 53)

 
آپ کہہ دیجئے اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، بے شک اللہ تعالی تمام گناہ معاف کردے گا ، بے شک وہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔

 
اللہ تعالی کی رحمت سے کبھی بھی ناامید نہیں ہونا چاہیئے اللہ تعالی تو سب سے بڑے نافرمان شیطان کو بھی معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔

حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان ختم ہونے کے بعد لنگر انداز ہوئی تو آپ نے ابلیس کو کشتی کے پچھلے حصے میں دیکھا تو فرمایا تو تباہ ہو جائے تیری وجہ سے زمین والے غرق ہوئے تو نے ان کو تباہ کر دیا؟ تو ابلیس نے کہا تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا تم توبہ کر لو ۔ اس نے کہا پھر آپ اللہ عز و وجل سے پوچھیں کیا میری توبہ قبول ہونے کی گنجائش ہے؟ تو حضرت نوح نے اللہ تعالی سے دعا کی اللہ تعالی نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ اس کی توبہ تب قبول ہو گی جب وہ آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کرے تو حضرت نوح علیہ السلام نے شیطان سے فرمایا تیری توبہ قبول ہو سکتی ہے اس نے پوچھا کیسے؟ فرمایا تو آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کردے اس نے کہا میں نے زندگی میں اس کو سجدہ نہیں کیا تھا اب اس کے مرجانے کے بعد کیسے کرلوں۔

(درمنثور ج 3، ص 33، تاریخ جنات و شیاطین ص 318)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے اسی طرح شیطان حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ملا تھا اس نے کہا تھا اے موسی! اللہ تعالی نے آپ کو اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا ہے اور آپ سے کلام فرمایا ہے میں بھی خدا کی مخلوق ہوں، میں نے گناہ کیا ہے اب توبہ کرنا چاہتا ہوں اپنے پروردگار کے سامنے میرے لئے سفارش کرو تاکہ وہ میری توبہ قبول فرمادے۔

تو حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا فرمائی، اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی! میں نے تیری دعا قبول کردی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ابلیس سے ملے اور فرمایا مجھے یہ حکم ملا ہے کہ تم حضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو سجدہ کردو تو تمہاری توبہ قبول کر لی جائے گی تو اس نے تکبر کیا اور غصہ میں آکر کہنے لگا میں نے اس کو زندگی میں سجدہ نہ کیا اب مرجانے کے بعد کیسے کروں؟

پھر ابلیس نے کہا اے موسی! تمہاری میرے حق میں سفارش کرنے سے تمہارا میرے اوپر حق بن گیا ہے تم تین مقام پر مجھ سے بچ کر رہا کرو ہلاکت کی یہی تین جگہیں ہیں۔

1۔        جب غصہ آئے تو سمجھ لینا کہ یہ میرا اثر ہے جو تمہارے دل پر پڑا ہے میری آنکھیں اس وقت تمہاری آنکھوں میں لگی ہوتی ہیں اور میں اس وقت تمہارے خون میں دوڑ رہا ہوتا ہوں۔

2۔        جب دو لشکروں (فوجوں)کی جنگ ہو رہی ہو تو اس وقت بھی میں ہی انسان کے پاس آتا ہوں اور اس کو اس کی اولاد، بیوی، بچے یاد دلاتا ہوں تاکہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے۔

3۔        نامحرم عورت کے پاس بیٹھنے سے بھی بچتے رہو کیوں کہ میں اس کا تیرے پاس اور تیرا اس کے پاس قاصد بنتا ہوں۔

(ابن ابی الدنیا مکائد الشیطان، تلبیس ابلیس ص 30، احیاء العلوم ج 3 ص 31، درمنثور ج 1 ص 51، تاریخ جنات و شیاطین ص 317)

Please follow and like us:
0