حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ابلیس سے ملاقات ہوئی تو ابلیس نے آپ سے کہا ااپ کی ذات تو اتنی اونچی ہے جو خدائی کے بڑے مرتبہ پر فائز ہے آپ نے گود میں بچپن میں کلام کیا جب کہ آپ سے پہلے کسی نے گود میں کلام نہیں کیا۔
آپ نے فرمایا خدائی اور عظمت تو اللہ کے لئے ہے جس نے مجھ سے بلوایا پھر موت دے گا پھر زندہ کرے گا۔
شیطان نے کہا نہیں نہیں آپ ہی تو ہیں جو اپنی خدائی کے بڑے درجہ پر پہنچے یہاں تک کہ مردوں کو بھی زندہ کر دیا۔
آپ نے فرمایا بلکہ خدائی اور عظمت اللہ کے لئے ہے جو مجھے بھی موت دے گا اور اسے بھی جس کو میں نے (اللہ کے حکم سے) زندہ کیا پھر وہ مجھے بھی زندہ کرے گا۔
شیطان نے کہا اللہ کی قسم آسمان کے بھی تم خدا ہو اور زمین کے بھی تم خدا ہو
تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کو اپنے پر سے ایسا تپھڑ رسید کیا کہ وہ سورج کے قریب جا گرا پھر ایک اور تھپڑ رسید کیا تو عین ہامیہ کے پاس جاگرا، پھر ایک اور تھپڑ رسید کیا کہ اس کو سات سمندروں کی تہہ میں اتار دیا اور ایسا دھنسایا کہ اس کے کیچڑ کا مزہ چکھا دیا۔
جب شیطان وہاں سے نکلا تو یہ کہہ رہا تھا ایسی ذلت کسی نے کسی سے نہ پائی ہوگی جیس میں نے (حضرت) عیسی (علیہ السلام )سے پائی۔

(ابن ابی الدنیا، تاریخ جنات و شیاطین ص 333)

Please follow and like us:
0