عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ عن النبی قال من رد عن عرض اخیہ المسلم کان حقا علی اللہ عز وجل ان یرد عنہ نار جھنم یوم القیامۃ (رواہ الترمذی)

 

حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کسی مسلمان بھائی کی عزت میں کوئی آنچ آرہی ہو اور کوئی آدمی اس کی عزت کی حفاظت کرے تو اللہ عز و جل قیامت کے دن اس  آدمی کی جھنم کی آگ سے حفاظت فرمائیں گے۔

ایک دوسری حدیث میں حضورﷺ نے صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ تم ایک دوسرے کی شکایتیں میرے سامنے بیان نہ کیا کرو کیوں کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میں تمہارے پاس آئوں تو میرے دل میں کسی کے خلاف بھی نفرت نہ ہو۔

آپس میں محبتیں بانٹنا اور اپنے سینے کو نفرتوں سے پاک کرنا حضورﷺ کی اہم تعلیمات میں سے ہے  اور اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ مسلمانوں کو غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے اور ان کی غلطیوں کو چھپایا جائے۔

ایک جگہ جلسہ تھا جس میں مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور بزرگ حضرات کے سفر کے اخراجات اور بقیہ ضروریات کا سامان مہیا کرنے کے لئے مختلف حضرات کی ڈیوٹی لگائی گئی ۔ انتظامیہ کو شک گزرا کہ جس آدمی کے ذمہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کا سفر خرچ ادا کرنا تھا اس نے خیانت کی ہے تو انہوں نے تحقیق کے لئے یہ صورت نکالی کہ مولانا سے عرض کیا کہ آپ کو جو خرچ پیش کیا گیا ہے اس میں ایک نوٹ کو تیل لگا ہوا ہے لائیے ہم اسے بدل دیں۔ تو مولانا نے مسکرا کر فرمایا ’’اللہ تعالی نے پردہ دری کی اجازت نہیں دی‘‘ یہ سن کو سب خاموش ہو گئے۔

 

 

Please follow and like us:
0