عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ اذا اقرض احدکم قرضا فاہدی الیہ او حملہ علی الدابۃ فلا یرکبہ ولا یقبلھا الا ان یکون جری بینہ وبینہ قبل ذٰلک (رواہ ابن ماجۃ )

حضرت انس رضی اللہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں کوئی بھی کسی کو قرضہ دے پھر وہ قرض دینے والے کوئی ہدیہ دے یا اس کو اپنی سواری پر بٹھائے تو وہ نہ تو اس سواری پر بیٹھے اور نہ ہی ہدیے کو قبول کرے لیکن اگر پہلے سے یہ معاملہ چلا آرہا ہے کہ وہ اس کو ہدیہ وغیرہ دیتا رہتا ہے یا اس کو اپنے سے ساتھ سواری پہ بٹھاتا رہتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (ابن ماجۃ)

سود بہت بری چیز ہے قرآن مجید میں

یٰااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُو اللہَ وَذَرُوْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰو اِنْ کُنْتُم مُّومِنِیْنَ O فَاِن لَّمْ تَفْعِلُوْ فَأذَنُوْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور بقیہ ماندہ سود کو چھوڑ دو اگر تم مومن ہو تو ۔ اگر تم یہ کام نہ کرو تو پھر اللہ اور اس کے رسول کا تمہارے ساتھ اعلان جنگ ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ سود کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے زنا کرے ۔

لہذا آدمی کو ہمیشہ بقدر استطاعت سود کی ہوا سے بھی بچتے رہنا چاہیئے  اگر کسی کو کوئی قرضہ وغیرہ دیا ہے تو اس سے کسی بھی قسم کا کوئی بھی فائدہ حاصل نہ کرے۔ نہ اس سے ہدیہ وصول کرے نہ اس کی سواری استعمال کرے ۔

یزید بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ قصہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کہ ایک گھر کے سامنے دھوپ میں بیٹھے ہوئے تھے (اور گرمیوں کے دن تھے) میں نے عرض کیا کہ آپ اس گھر کی چھاؤں میں تشریف لے آئیں تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ اس گھر والے میں نے میرا قرض دینا ہے لہذا اس کے گھر کی چھاؤں سے میں مستفید نہیں ہونا چاہتا۔

آج کل ایزی پیسہ ، جیز کیش اور آن لائن رقم ٹرانسفر کرنے والی کمپنیاں یہ آفر دیتی ہے کہ آپ مقررہ رقم اپنے اکاؤنٹ میں سیو رکھیں گے تو ہم آپ کو کال منٹس اور ایس ایم ایس فری دیں گے تو اس آفر کو بھی استعمال نہیں کرنا چاہیئے کیوں کہ ہم نے اپنے اکاؤنٹ میں جو رقم رکھی ہے وہ کمپنی کے پاس ہمارا ادھار ہے جس پر کسی قسم کا کوئی فائدہ حاصل کرنا سود کی ایک صورت بنتی ہے لہذا اس سے بچنا چاہیئے۔

 

 

 

Please follow and like us:
0