عن ام سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت شکوت الی رسول اللہ ﷺ انی اشتکی فقال طوفی من وراء الناس وانت راکبۃ فطفت ورسول اللہﷺ یصلی الی جنب البیت یقرأ بالطور وکتاب مسطور o (متفق علیہ)َِ

حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ میری طبیعت خراب ہے (میرے لئے طواف کرنا مشکل ہے) تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سواری پر سوار ہو کر بھی تم طواف کر سکتی ہو لیکن لوگوں کے بالکل پیچھے رہنا (تاکہ تمہاری سواری کی وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو) تو میں نے طواف کیا  (سواری پر) اس وقت حضورﷺ بیت اللہ کے بالکل قریب کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور اس نماز میں حضورﷺ نے سورۃ طور کی تلاوت فرمائی تھی۔ (بخاری و مسلم )

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو یا معذور ہو اور کوئی دوسرا آدمی اس کو وہیل چیئر پر بٹھا کر طواف کرائے یا وہ الیٹرک وہیل چیئر بھی استعمال کرے تو اس سے بھی اس بیمار، معذور کا طواف ہو جائے گا۔

Please follow and like us:
0