حضرت نعمان بن برزخ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسود عنسی کذاب نے جب نبوت کا جھوٹا دعوی کیا تھا اس کے ساتھ دو شیطان ہوتے تھے ایک کا نام سحیق اور دوسرے کا نام شقیق تھا، یہ دونوں شیطان لوگوں کے درمیان کے واقعات کی اس کو اطلاع کردیتے تھے ۔(ان ہی باتوں کے بل بوتے پر یہ لوگوں کو گمراہ کرتا اور جھوٹی نبوت چمکاتا تھا)۔ (الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ جلد ۱ صفحہ ۱۸، تاریخ جنات و شیاطین : ۳۰۲)

پیری مریدی ایک انتہائی اعلی عمل ہے جس سے لوگوں کے نفوس کی اصلاح کا کام ہوتا ہے اور یہ عمل خود قرآن مجید سے بھی ثابت ہے ۔ اللہ تعالی خود ارشاد فرماتے ہیں

یا ایھا النبی اذا جائک المومنٰت یبایعنک

اے نبی جب مومن عورتیں آپ کے پاس بیعت کرنے کے لئے آئیں۔

اور اس عمل کی بہت سارے آداب ہیں ان آداب کی رعایت رکھنا بہت ضروری ہے ۔سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ یہ پہچانا جائے کہ اصلی پیر کون ہے۔

آج کل یہ مسئلہ بہت عام ہوتا جا رہا ہے کہ جعلی پیر بنے بیٹھے ہوتے ہیں اور مختلف حیلے حربوں سے لوگوں سے پیسے بٹورتے اور عورتوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں ۔ لوگ ان کی شعبدہ بازیوں کو دیکھ کر ان کو واقعی اللہ تعالی کا ولی ماننا شروع کردیتے ہیں حالانکہ ولایت کا معیار کرامت نہیں ہے ۔ بلکہ ولایت کا معیار قرآن مجید نے خود بیان کردیا ہے

قل ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ

آپ فرمایا دیجئے اگر تم اللہ تعالی سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ تعالی (بھی )تم سے محبت کرے گا۔

اس کائنات میں اللہ تعالی کو سب سے زیادہ پیار حضورﷺ سے ہے جو آدمی حضورﷺ کی جتنی زیادہ مشابہت اختیار کرے گا حضورﷺ کی جتنی زیادہ سنتوں کو اختیار کرے گا تو وہ حقیقت میں اللہ تعالی کو ولی ہے ۔ اگر اس کے ہاتھ سے کوئی کرامت صادر ہو یا نہ ہو وہ ولایت کو پہنچ چکا ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے کسی نے پوچھا کہ کیا حضورﷺ عورتوں کو بیعت کیا کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا بالکل فرمایا کرتے تھے لیکن کبھی بھی حضورﷺ کا ہاتھ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کا ایک اہم واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ موسی علیہ السلام کا جادوگروں کے ساتھ مقابلہ ہوا اس میں موسی علیہ السلام جیت گئے تو وہ سارے کے سارے جادوگر سجدہ میں گر پڑے اور موسی علیہ السلام پر ایمان لے آئے اس کے بعد فرعون نے ان کو دھمکی دی کے موسی (علیہ السلام )کے دین کو چھوڑ دو نہیں تو پہلے تمہارے بازو کاٹوں گا پھر پائوں کاٹوں گا اور پھر کھجور کے تنوں پر تمہیں صولی دے دوں گا تو انہوں نے کہا تم جو مرضی ہے سزا دو وہ تو اس دنیا کی حد تک ہی ہو گی ہم اپنے حقیقی رب پر اب ایمان لاچکے ہیں اب ہم اس کو نہیں چھوڑ سکتے ۔ (طہ: ۵۶ ۔۷۶)

اتنا پختہ ایمان ہوا کہ ہاتھ پائوں کٹانے کے لئے تیار صولی پر لٹکنے کے لئے تیار ہیں لیکن موسی علیہ السلام کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوئے یہ کس وجہ سے ہوا اس کے بارے میں علماء نے مختلف وجوہات بیان کی ہے ان میں سے ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ وہ جادوگر موسی علیہ السلام کی مشابہت اختیار کر کے آئے تھے جیسا چوغا موسی علیہ السلام نے پہنا تھا ویسا ہی انہوں نے بھی پہنا تھا اور جیسا عصا موسی علیہ السلام کے پاس تھا وہ بھی اسی طرح عصا کے ساتھ میدان میں آئے تھے تو اللہ تعالی کو اپنے پیغمبر کی مشابہت اختیار کرنا اتنا اچھا لگا کہ اللہ تعالی نے تھوڑی سی دیر میں اتنا مضبوط ایمان دے دیا کہ لڑنے کے لئے تیار ہیں لیکن ایمان چھوڑنے کےلئے تیار نہیں ہے۔

اکثر لوگوں  نے کرامت کو ولایت کو معیار قرار دے دیا جس کی وجہ سے جعلی پیروں کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے اور وہ مختلف شعبدہ بازیوں، جادو ٹونے کو اختیار کر کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور پھر ان کے مال و دولت کو اور عزتوں کو لوٹنا شروع کردیتے ہیں۔

 

 

Please follow and like us:
0