مسلمانوں کے لئے اپنے وطن کو آزاد کرانے کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

مسلمانوں کا علیحدہ وطن حاصل کرنا تاکہ مسلمان اس میں اپنے رب کی عبادت صحیح طور پر بجا لاسکیں اور اپنے رب کو راضی کر سکیں۔ اور اس کے لئے

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس بارے میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے:

يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي کَتَبَ اللَّهُ لَکُمْ وَ لاَ تَرْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ‌ (21)

قَالُوا يَا مُوسَى إِنَّ فِيهَا قَوْماً جَبَّارِينَ وَ إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنْ يَخْرُجُوا مِنْهَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ‌ (22)

قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَ عَلَى اللَّهِ فَتَوَکَّلُوا إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ‌ (23) ﴿المائدة

”(موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا ) اے میری قوم مقدس زمین میں داخل ہو جائو جو کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے مقرر کر دی ہے اور پیٹھ پھر کر واپس نہ آنا نہیں تو تم نقصان اٹھانے والوں میں شمار ہو گے۔ تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس میں بہت زبردست قوم (قوم عمالقہ ) موجود ہے جب تک وہ وہاں سے نہ نکل جائیں ہم وہاں نہیں جائیں گے اگر وہ نکلیں تو ہم داخل ہوں گے۔  دو اآدمیوں نے جو کہ (اللہ تعالی سے) ڈرتے تھے اللہ تعالی نے ان دونوں پر انعام بھی فرمایا تھا نے کہا کہ تم دروازے سے داخل ہو کر ان کے پاس چلے جائو جب تم اندر داخل ہو گئے تو تم ہی غالب ہو گے اور اگر تم مومن ہو تو اللہ پر توکل کرو۔ ”

ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے فرعون اور اس کی فوج کو غرق کر دیا اور موسی علیہ السلام اور بنی اسرائیل ملک ِمصر کے مالک بن گئے تو پھر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اپنے آبائی وطن یعنی شام کو بھی آزاد کرائو اور ساتھ خوشخبری بھی دی کہ وہاں تمہیں ضرور فتح ہو گی ۔ بنی اسرائیل حالانکہ کہ وہ فرعون اور اس کے لشکر کو ڈوبتا دیکھ چکے تھے اور بھی بہت سے معجزات کا مشاہدہ کر چکے تھے اس کے باوجود انہوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالی کے وعدے پر بھی یقین نہ کیا اور کہا کہ وہاں پر تو قوم عمالقہ آباد ہے جو کہ بہت طاقتور ہے لہذا جب تک وہ وہاں پر ہیں ہم وہاں پر داخل نہیں ہوں گے اور موسی علیہ السلام سے کہا کہ

يَا مُوسَى إِنَّا لَنْ نَدْخُلَهَا أَبَداً مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ‌ O ﴿المائدة، 24﴾

”اے موسی جب تک وہ وہاں ہیں ہم وہاں نہیں جائیں گے لہذا تم اپنے رب کو ساتھ لے کر جائو اور جہاد کرو ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں۔ ”

تو اس حکم عدولی پر اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک وہ وادی تیہ میں سرگرداں پھرتے رہے صبح مصر کی طرف جانے کے لئے سفر شروع کرتے رات کو جب سوتے تو صبح پھر جہاں سے پچھلے دن سفر کیا تھا اسی جگہ پر ہی ہوتے تھے۔

تو ان آیات میں اللہ تعالی کے ماننے والوں کے لئے اپنے وطن کو آزاد کرانے کا حکم دیا گیا اور نہ کرانے پر سزا بھی دی گئی جس سے وطن کو آزاد کرانے کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔

اور جہاں مسلمان مظلوم ہوں اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت کوئی بڑا اقدام نہ کرسکتے ہوں تو دوسرے مسلمانوں کے اوپر ان کی مدد کرنا بھی لازم ہوتا ہے اس کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:

وَ مَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَ اجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ وَلِيّاً وَ اجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْکَ نَصِيراً (75) ﴿النساء، 75﴾

”تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کے راستے میں جنگ  نہیں کرتے اور ان کمزور لوگوں کے لئے جو چاہے مرد ہوں یا عورتیں ہوں یا بچے ہوں جو یہ دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی والی بنادے اور اپنی طرف سے ہمارا مدد گار مقرر فرما۔ ”

لہذا آج کل پوری امت مسلمہ کے اوپر مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کا فریضہ بھی عائد ہوتا ہے اور خاص طور پر پاکستانی مسلمان کے لئے پڑوسی ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا بھی پاکستانی مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ لہذا مسئلہ کشمیر کو ہم اس مکالمے میں کئی جہات سے دیکھیں گے کہ مسئلہ کشمیر کیا ہے اور اس کا حل اب تک کیا کچھ کیا گیا ہے اور مزید کیا کیا جانا چاہیئے۔

مسئلہ کشمیر

مسئلہ کشمیر انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کو اپنا مسئلہ سمجھیں اورغیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیر کو بھارت کے قبضے سے نجات دلا کر دم لے۔

کشمیر دنیا کا وہ بدقسمت خطہ ہے جس کو انسانوں سمیت 75 لاکھ نانک شاہی میں خرید کر غلام بنایا گیا تو کبھی جابرانہ فیصلے کے ذریعے اقلیت نے اکثریت پر حکمرانی کی، انصاف کے عالمی دعویداروں نے ہمیشہ انصاف کے نام پر کشمیریوں کی نسل کشی اور تباہی کے منصوبوں کا ساتھ دیا۔ کشمیریوں نے آزادی کے لیے کئی لاکھ جانبازوں کی قربانی دی مگر عالمی قوتوں کی منافقت کے باعث آزادی کی یہ جنگ ظلم جبر اور تشدد کا نہ صرف سبب بنی بلکہ جنت نظیر وادی ایک فوجی کیمپ، خوف، مایوسی اور تاریکی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ کشمیر وہ خطہ ہے جس کی ماضی میں مثال خوبصورتی، سرسبز و شادابی، قدرتی حسن، بلند و بالا پہاڑ، دنیا کے بہترین پھلوں، میووں، برف پوش پہاڑی سلسلوں، حسین وادیوں، یہاں کے باسیوں کے مثالی اخلاق اور جفاکشی، اسلام دوستی، محبت و بھائی چارہ، دنیا کے مختلف خطوں میں کشمیری نوجوانوں کی مثالی خدمات اور اعلیٰ صلاحیتوں کے حوالے سے دی جاتی تھی اور کشمیر کا ذکر آتے ہی انہی چیزوں کا تصور ذہن میں آتا تھا مگر آج جب کوئی شخص کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو فوراً جلاؤ گھیراؤ، فوجی کیمپ، عورتوں کی عصمت دری، خوف، ظلم و ستم، تشدد، غلامی، مایوسی، قتل و غارت، بچوں کا تاریک مستقبل، تقسیم در تقسیم لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بھارتی تسلط کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود کشمیریوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ بے انتہا جانی و مالی نقصانات کے باوجود کشمیر کے عظیم سپوتوں نے اپنی آزادی کا سودا نہیں کیا۔ تنازع کشمیر کو دنیا کا قدیم ترین تنازع کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر نام نہاد مہذب دنیا نے اس تنازع کو حل نہیں کیا تو شاید دنیا میں پہلی باقاعدہ عالمی ایٹمی جنگ اور پھر دنیا کی ایک بڑی تباہی کا سبب کشمیر ہی بنے گا۔ کشمیریوں کی جرات و بہادری اور بھارتی تسلط سے آزادی کے حصول کی جدوجہد سے اظہار یکجہتی کے طور پر پاکستانی قوم گزشتہ کئی دہائیوں سے ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر مناتی ہے۔

ریاست جموں و کشمیر بنیادی طور پر 7 بڑے ریجنوں وادی کشمیر، جموں، کرگل، لداخ، بلتستان، گلگت اور پونچھ اور درجنوں چھوٹے ریجنوں پر مشتمل 84 ہزار 471 مربع میل پر پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ریاست آبادی کے حساب سے اقوام متحدہ کے 140 اور رقبے کے حساب سے 112 رکن ممالک سے بڑی ہے۔ مذکورہ بالا تمام ریجنوں کی اپنی اپنی ایک تاریخ ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ دس کروڑ سال قبل یہ خطہ سمندر میں ڈوبا ہوا تھا مگر آہستہ آہستہ خطے کی سر زمین وجود میں آئی اور اس عمل کو بھی 10 کروڑ سال گزر چکے ہیں۔ ہزاروں سالہ تاریخ کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے تو کبھی کشمیر کی ریاست دہلی سے کابل، کبھی لداخ سے سندھ کے ساحل کراچی تک پھیلی نظر آتی ہے اور کبھی اسی ریاست میں درجنوں چھوٹی بڑی آزاد ریاستیں نظر آتی ہیں۔ آج کی دنیا میں جس ریاست کی بات کی جاتی ہے وہ 15 اگست 1947ء کو قائم ہوئی۔ ریاست جموں و کشمیر ہے اور اقوام متحدہ میں یہی پوری ریاست متنازعہ کشمیر قرار پائی۔ کشمیریوں کی بدقسمتی کا آغاز 16 مارچ 1846 کو میں معاہدہ امرتسر کے ساتھ ہی ہوا جس کے ذریعے گلاب سنگھ نے انگریز سے 75 لاکھ نانک شاہی میں جموں و کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ خرید کر غلام بنایا جبکہ گلگت بلتستان، کرگل اور لداخ کے علاقوں پر قبضہ کر کے ایک مضبوط اور مستحکم ریاست قائم کی، مہاراجہ کشمیر نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کردی کیونکہ حکمراں طبقہ اقلیتی تھا جبکہ خطے کی 85 فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی اس لئے حکمراں ہمیشہ مسلمانوں سے ہی خطرہ محسوس کرتے تھے۔ مہاراجہ نے مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لئے بڑی کوششیں کیں یہی وجہ ہے کہ 1846 کے بعد ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف 1931 تک کوئی نمایاں آواز نہیں اٹھی اگرچہ اس عرصے میں مسلمانوں کی نصف درجن سے زائد انجمنیں یا جماعتیں بن چکی تھیں مگر ڈوگرہ کے ظلم و ستم کی وجہ سے مسلمان سر نہ اٹھا سکے۔

ہم جب ریاست جموں و کشمیر کا جائزہ لیتے ہیں تو ڈوگرہ حکمرانوں کے دور میں 1924 تک سیاسی خاموشی نظر آتی ہے۔ یہ خاموشی 1924 میں اس وقت ٹوٹی جب سرینگر میں کام کرنے والے ریشم کے کارخانوں کے مزدوروں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی اور پوری ریاست نے ان کی آواز میں آواز ملائی اور یوں پوری ریاست سراپا احتجاج بن گئی، اس تحریک کو بھی ڈوگروں نے طاقت کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی، وقتی طور پر یہ تحریک کمزور ضرور ہوئی مگر اس کے بعد ریاست کے عوام میں بیداری آئی اور آزادی کا جذبہ توانا ہوا۔۔ ڈوگرہ حاکم کی کوشش رہی کہ ریاست کو بھارت کا حصہ بنایا جائے یا اس کی خود مختار حیثیت کو بحال رکھا جائے جبکہ مسلمانوں کا مطالبہ ریاست کو پاکستان کا حصہ بنانا تھا مگر ڈوگرہ تاخیری حربے استعمال کرتا رہا یہی وجہ ہے کہ 24 اکتوبر 1947 کو آزاد کشمیر میں آزاد حکومت کے قیام کے ساتھ ہی مجاہدین نے سرینگر کی طرف رخ کیا اور سرینگر تک کے علاقے پر قبضہ کرلیا اور مہاراجہ کشمیر دارالحکومت سے بھاگ کر جموں چلا گیا۔

26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے نہ صرف بھارت سے فوجی امداد طلب کی بلکہ بھارت کے ساتھ الحاق کی درخواست بھی دی اور بھارت چونکہ کشمیر پر قبضے لیے موقع کی تلاش میں تھا لہٰذا 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کشمیر پر قابض ہوگئیں، دوسری طرف پاکستان کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے مجاہدین کو آزاد کیا ہوا ایک بڑا علاقہ بھی خالی کرنا پڑا اور مجبوراً پسپائی اختیار کرنا پڑی، بھارت کشمیر میں اس وعدے کے ساتھ داخل ہوا تھا کہ امن کے قیام کے بعد کشمیر سے واپس چلا جائیگا مگر آج تک بھارت کی واپسی نہیں ہوئی۔

دوسری طرف جب سرینگر میں بھارتی قبضہ ہوا اور آزاد کشمیر میں آزاد حکومت قائم ہوئی تو یکم نومبر 1947 کو گلگت میں بھی بغاوت ہوئی۔ ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے اسلامی جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی گئی جبکہ بلتستان اور وادی گریز(تراگبل، قمری، کلشئی، منی مرگ) اور دیگر علاقوں میں 1948 تک جنگ جاری رہی۔ 16 نومبر 1947 کو پاکستان نے اس پر کنٹرول کیا انگریز کے برصغیر سے جانے کے بعد کشمیریوں کو ڈوگرہ سے آزادی تو ملی مگر ریاست جموں و کشمیر کا ایک بڑا حصہ بھارتی غلامی میں چلا گیا۔ جب سے اب تک تنازع کشمیر پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا کے لئے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء اور تیسری 1999ء میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی نشانہ بنتی رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند گروپوں میں کچھ گروپ کشمیر کے مکمل خود مختار آزادی کے حامی ہیں تو کچھ اسے پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان پورے جموں اور کشمیر پر ملکیت کا دعوے دار ہے۔ 2010 میں ہندوستان کا کنٹرول 43 فیصد حصے پر تھا جس میں مقبوضہ کشمیر، جموں، لداخ اور سیاچن گلیشئر شامل ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 37 فیصد حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں مسئلہ کشمیر پر ایک بنیادی نظریے پر کھڑے ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ تقسیم ہند کے دوران جموں و کشمیر برطانوی راج کے زیر تسلط ایک ریاست ہوتا تھا۔ جس کی آبادی 95 فیصد آبادی مسلم تھی۔ جب ہندوستان کو تقسیم کیا جا رہا تھا تو جن علاقوں میں مسلم اکثریت تھی وہ علاقے پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ علاقے بھارت کو دیے گئے۔ پر کشمیر میں اکثریتی آبادی تو مسلمان تھے لیکن یہاں کا حکمران ایک سکھ تھا اور سیکھ حکمران چاہتا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہو جائے۔ لیکن تحریک پاکستان کے رہنماؤں نے اس بات کو مسترد کیا۔ آج بھی پاکستان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں مسلمان زیادہ ہیں اس لیے یہ پاکستان کا حصہ ہے اور بھارت کا ماننا ہے کہ اس پر سکھ حکمران تھا جو بھارت سے الحاق کرنا چاہتا تھا اس لیے یہ بھارت کا حصہ ہے۔

اقوام متحدہ نے پہلی مرتبہ کشمیر کے متنازع خطے سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر تشدد کے سلسلے کو بند کر کے معنی خیز مذاکرات کے عمل سے حل ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرکے انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے اور اظہار رائے اور مذہب کی آزادی کو بحال کیا جائے۔

انسانی حقوق کے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر زید رادالحسین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے بارے میں جامع بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام دونوں کشمیر میں ماضی میں اور موجودہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور تمام لوگوں کو انصاف مہیا کیا جائے جو گذشتہ سات دہائیوں سے اس تنازعے کا سامنا کر رہے ہیں جس نے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔

جاری ہونے والی اس انچاس صفحات پر مشتمل رپورٹ میں زید رادالحسین کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدسلوکی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں پر سزائیں نہ دینے کی دائمی صورت حال ہے جس پر رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

 

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا سے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 برس کے دوران فوج یا مسلح شدت پسندوں کے ہاتھوں جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ان کی ازسرنو تحقیقات کی جائیں اور قتل اور حقوق کی دیگر پامالیوں میں ملوث فوجی و نیم فوجی اہلکاروں کے مقامی مواخذہ میں حائل فوجی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق 2016 کے گرما میں مسلح رہنما برہان وانی کی ہلاکت سے 2018 کے مارچ تک 130 سے 145 کشمیری مظاہرین فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے۔ رپورٹ میں سکیورٹی آپریشنز کے دوران مارے گئے افراد یا رہائشی مکان کھونے والے افراد کو معاوضہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔

رپورٹ سے متعلق یہاں کے علیحدگی پسندوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم حکومت ہند کی وزارت خارجہ نے اسے “جھوٹ کا پلندہ” قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعہ کہا ہے کہ “یہ رپورٹ خاص مفاد کو زیرنظر رکھ کر تیار کی گئی ہے اور اس کی صداقت اور غیرجانبداری پر ہم سوال اُٹھا رہے ہیں۔”

رپورٹ کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنہ 2016 سے مظاہرین کے خلاف استعمال کیا جانے والا سب سے مہلک ہتھیار پیلٹ گن ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سے جولائی 2016 سے اگست 2017 کے درمیان سترہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ چھ ہزار سے زائد زخمی بھی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کو کشمیری حلقوں نےاطمینان بخش قرار دیا ہے جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ نے اسےجھوٹ کا پلندہ’ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آزادی اظہار، پرامن اجتماعات اور شمولیت کی آزادی پر پابندی اور حال ہی میں کشمیر اور گلگت بلتستان میں صورتحال کی وجہ سے محدود معلومات حاصل کرسکیں ہیں۔

رپورٹ میں نمایاں کیے جانے والے مسائل میں پاکستان کے پاس ان دو “علاقوں” کی آئینی حیثیت بھی شامل ہے۔ پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں اس کے زیر انتظام کشمیر پر موثر طریقے سے کنٹرول رکھا ہے۔ پاکستان نے گلگت بلتستان میں بھی وفاقی حکام کے ذریعے مکمل کنٹرول کیا ہوا ہے، اور وفاقی انٹیلی جنس اداروں کو دونوں علاقوں میں تعینات کیا جاتا رہا ہے۔

انسانی حقوق پر پاکستانی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے اثرات اس رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیٹی کی “انسداد دہشت گردی کے قانون میں رکھی دہشت گردی کی انتہائی وسیع تعریف” پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔ رپورٹ نے ایک مقتدر غیرسرکاری تنظیم کے حوالے سے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سینکڑوں افراد کو قید کیا گیا ہے، اور یہ قانون مقامی لوگوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کمیشن بنانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

کشمیر! زمین بر جنت، کشمیر ! ایک کہانی وہ کہانی جو آج تک ہم کتابوں میں پڑھتے آ رہے ہیں۔ وہ کہانی جس کی ابتدا ہوئی آج سے 70 سال پہلے پاکستان کے بننے اور ہندوستان کے بٹوارے سے ہوئی۔ کشمیر ! پاکستان اور بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ جو آج تک اپنے حل ہونے کا انتظار کر دیا ہے۔ ایک ایسا مسئلہ جو آج کشمیریوں کی آزادی کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ آزادی جو انہیں بھارتی مظالم سے نجات دلوائے۔ وہ آزادی جس کا حق ان سے چھین لیا گیا۔ وہ آزادی جو انہیں بھارتی سکیورٹی فورسز سے چاہئے۔ جنہوں نے گزشتہ 27 سالوں میں تقریباً 94 ہزار کشمیریوں کو ہلاک کیا ہے۔ جن میں سے دس ہزار سے زائد خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بھارت کی مسلح افواج کے دفعہ 7، خصوصی طاقتور ایکٹ 1990ءجس میں سکیورٹی فورسز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عدالت سے معافی ہے، 7 ہزار سے زائد افراد کو قتل کر چکے ہیں اور تمام معصوم کشمیریوں پر کرفیو لگا کر انہیں تمام ضروریات زندگی اور تو اور تعیلم سے بھی دور رکھا ہوا ہے۔ ویسے تو کشمیری 1989ءسے آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارت نے برہان وانی کی شہادت کو دہشت گردی قرار دے کر کشمیر میں مزید سکیورٹی فورسز اور پابندیاں عائد کرنے کا موقع ڈھونڈ لیا اور دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے یہ الفاظ ہیں کہ ”کشمیر کا مسئلہ گولی سے نہیں محبت سے حل ہو سکتا ہے۔“ اس کا مطلب بھارت یہ جانتا ہے کہ گولی اس مسئلے کا حل نہیں لیکن پھر بھی وہ اس پر عملدرآمد نہیں کرتا۔ یعنی وہ چاہتا ہی نہیں کہ یہ مسئلہ حل ہو۔ اور نہ یہ کہ کشمیری آزاد فضا میں سانس لیں تو پھر وہ کیا چاہتا ہے؟

اصل میں اسے کشمیریوں کو قابص نہیں کرنا، اسے تو کشمیر چاہئے۔ چاہے اس کے لئے تمام کشمیریوں کو ہی کیوں نہ موت کے گھاٹ اتارنا پڑے۔ بظاہر تو دنیا کو یہی لگتا ہے کہ کشمیر کی جنگ پانی کی وجہ سے ہو رہی ہے لیکن پانی کا تو بہانہ ہے کیونکہ بھارت تو پہلے ہی اپنے دریاﺅں پر ڈیم بنا چکا ہے۔ تو پھر! آخر وہ کشمیر کو اپنے ہاتھوں سے کیوں نہیں جانے دینا چاہتا؟

دراصل جہاں کشمیر واقع ہے وہ خطہ ایسا ہے جہاں یورینیم کے بے حد زیادہ ذخائر موجود ہیں اور دونوں ارد گرد ممالک ایٹمی قوت ہیں تو بھارت کی یہ کوشش ہے کہ اس خطے کو پاکستان کے خلاف اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ تباہ و برباد ہو جائے۔ بھارت کی کشمیر میں بربریت اور بے امنی قائم کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اگر اس خطے کے لوگ تعلیم حاصل کر لیں اور قدرت کے اس خزانے سے مستفید ہو گئے تو سب سے زیادہ نقصان بھارت کا ہی ہو گا۔ کشمیر کے وہاں ہونے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے بارڈرز بھی دور ہیں اور اگر کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا تو اس سے سب سے بڑا خطرہ بھارت کو ہو گا۔ بھارت اس خطے پر قبضہ کر کے پاکستان کے اہم ترین شہروں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تو کیا ہمیشہ کشمیر کے لوگ آزادی کے لئے ترستے رہےں گے؟ کیا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں؟ کیا ہم ان بے گناہ لوگوں کا قتل عام دیکھ کر یوں ہی خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں گے؟ کیا ہم یہی سوچ کر خوش ہوتے جائںی گے کہ کشمیری وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہے ہیں اور وہ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ شاید وہ نہتے لوگ اپنے ہر مظاہرے، ہر احتجاج میں پاکستان کا جھنڈا کہیں اس لئے تو بلند نہیں کرتے کہ وہ ہم سے مدد چاہتے ہیں، کہیں وہ اپنے شہیدوں کو سبز کپڑے میں اس لئے تو نہیں دفناتے کہ وہ یہ یاد دلا رہے ہوں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے اور مدد مانگتے مانگتے اس دنیا سے چلا گیا؟ کہیں وہ ہمیں نبی کے اس خطبے کی یاد دہانی تو نہیں کرواتے جس کے مطابق پوری مسلم امہ ایک جسم کی مانند ہے اور اگر جسم کے ایک حصے میں بھی تکلیف ہو تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ تو ہاں! وہ مظلوم کشمیری ہم سے اس مسئلے کو حل کرنے کی مدد مانگ رہے ہیں۔ اس کا حل بھی آنحضرت محمد کے آخری خطبے میں ہی ہے کہ ساری مسلم امت ایک جسم ہے اور اگر آج ساری مسلم اقوام مل کر صرف یہ قدم اٹھا لیں کہ اپنے تیل پر قابض مغربی قوتوں سے اسے نکال کر اس کی سپلائی مغربی ممالک اور بھارت میں روک دیں اور مطالبہ کریں کہ کشمیر کا مسئلہ جب تک حل نہیں ہو گا یہ سپلائی نہیں کھلے گی اور OIC(اسلامی تعاون تنظیم) کے تمام ممالک مل کر بھارت کو یہ کہہ دیں کہ کشمیر کو خالی کرو ورنہ خلیجی ریاستوں سے تمام بھارتی افرادی قوت واپس بھیج دی جائے گی اور تمام اسلامی ریاستوں میں بھارتی اشیاءکا بائیکاٹ کر دیا جائے گا اور تو اور بھارت کسی بھی خلیجی ریاست کو تجارتی مقاصد کے لئے بھی خواہ اشیاءکی خرید و فروخت ہو یا تجارتی راستہ ہو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تو یقین رکھیں ایک دن میں ہی یہ 70 سالہ مسئلہ اقوام متحدہ حل کروا دے گا۔ اور کشمیریوں کو روہنگیا کے مسلمان بننے سے بچا لیا جائے گا۔ اس بے حسی کو چھوڑ کر اگر ہم ایک قوم ہو کر تمام مسلم ممالک ایک طاقت بن جائیں تو نہ صرف پوری دنیا پر قابض ہو جائیں گے بلکہ کوئی بیرونی طاقت جو آج ہمیں دہشت گرد کے نام سے پکارتی ہیں آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتی۔ کشمیر کو ایک گولی بھی چلائے بغیر آزادی مل سکتی ہے۔

 

 

 

 

Please follow and like us:
0