عن سلمان رضی اللّٰہ عنہ قال قرأت فی التورۃ ان برکہ الطعام الوضوء بعدہ فذکرت ذٰلک للنبیﷺ فقال رسول اللّٰہ ﷺ برکہ الطعام الوضوء قبلہ والوضوء بعدہ ۔ (رواہ الترمذی  و ابوداؤد)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کی برکت تب حاصل ہوتی ہے جب کھانے کے بعد ہاتھ دھو لئے جائیں تو میں نے حضورﷺ سے اس بات کا تذکرۃ کیا تو حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کھانے کی پوری برکت حاصل کرنے کے لئے کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھونے چاہیئیں اور کھانے کے بعد بھی۔

وعن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ عن النبیﷺ انہ اتی بقصعہ من ثرید فقال کلو من جوانبھا ولا تاکلو من وسطھا فان البرکہ تنزل فی وسطھا۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ )

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں حضورﷺ کے پاس ایک آدمی ثرید سے بھرا ہوا بڑا پیالا لایا (تو حضورﷺ نے باقی صحابہ کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا اور ) صحابہ سے فرمایا کہ اس کے ارد گرد سے کھاؤ درمیان سے نہ کھانا اس لئے کہ برکت درمیان میں  اترتی رہتی ہے (لہذا سب سے آخر میں درمیان والا کھانا تاکہ برکت زیادہ ہوجائے)

وعن عبد اللّٰہ ابن الحٰرث بن جزء قال اتی رسول اللّٰہ ﷺ بخبز و لحم وھو فی المسجد فاکل واکلنا معہ ثم قام فصلی وصلینا معہ ولم نزد علی ان مسحنا ایدینا بالحصباء ۔(رواہ ابن ماجہ)

حضرت عبد اللہ بن حارث بن جزء فرماتے ہیں کہ حضورﷺ مسجد میں تھے ایک آدمی حضورﷺ کے لئے گوشت اور روٹی لے کے آیا تو حضورﷺ نے خود بھی نوش فرمایا اور ہم نے بھی آپﷺ کے ساتھ کھایا پھر اس کے ہم نے کنکریوں سے ہاتھ صاف کئے (نہ ہم نے نیا وضو کیا اور نہ ہی ہاتھوں کودھویا )پھر حضورﷺ نے نماز پڑھائی اور ہم نے حضورﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔

عن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال اتی رسول اللّٰہ ﷺ بلحم فرفع الیہ الذراع وکانت تعجبہ فنھس منھا (رواہ الترمذی وابن ماجہ)

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے پاس ایک آدمی گوشت لایا تو ایک صحابی نے حضورﷺ کو اس میں سے ٹانک کا حصہ اٹھا کر دیا تو حضورﷺ نے اپنے دانتوں سے اس گوشت کو کاٹ کر کھایا۔

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اپنے دانتوں سے کوئی چیز کاٹ کر کھائی جائے جیسے برگر وغیرہ کھایا جاتا ہے تو بالکل جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔

وعن عائشہ رضی اللّٰہ عنھا قالت قال رسول اللّٰہ ﷺ لا تقطعو اللحم بالسکین فانہ من صنع الاعاجم وانھسوہ فانہ اھنأ وامرأ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا گوشت کو چھریوں (کانٹوں) سے کاٹ کے نہ کھاؤ اس لئے کہ یہ عجمی لوگوں کا طریقہ ہے بلکہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کے کھاؤ ۔

یعنی جیسے انگریز لوگوں کا طریقہ ہے کہ کانٹے کے ساتھ گوشت وغیرہ کو کاٹ کر کھاتے ہیں تو یہ طریقہ مناسب نہیں ہے بلکہ اپنے دانتوں سے گوشت کو کاٹ کر کھانا چاہیئے اس سے آدمی کا نظام ہضم ٹھیک کام کرتا ہے اور اس میں گوشت کھانے کا ذائقہ بھی زیادہ آتا ہے۔

وعن انس رضی اللّٰہ عنہ قال کان رسول اللّٰہ ﷺ یعجبہ الثفل ۔(رواہ الترمذی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور کو کھروڑی (دیگچے کے نیچے لگی ہوئی چیز) اچھی لگتی تھی۔

عن نبیشہ رضی اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ ﷺ قال من اکل فی قصعہ فلحسھا استغرت لہ القصعہ ۔(رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ)

حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی پیالے(پلیٹ)  میں کھایا اور کھانے کے بعد اس کو چاٹ لیا تو وہ پیالہ یا پلیٹ اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔

کھانا اللہ تعالی کا دیا ہوا رزق ہے لہذا اس کو ضائع کرنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے اکثر لوگ پلیٹ میں کھانا کھاتے ہیں اور آخر میں دو تین لقمے کے برابر کھانا چھوڑ دیتے ہیں جو کہ برتن دھونے کے وقت نالی میں جاکے گٹر کے پانی میں مکس ہوتا ہے اور یہ چھوڑنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کہیں لوگ یہ نہ کہیں کہ بہت بھوکا تھا سارا ہی کھانا کھاگیا۔ لیکن لوگ تو کسی حال میں بھی خوش نہیں ہوتے آپ نے گنوار کے گدھے والا قصہ تو سنا ہی ہوگا۔ لہذا ہمیں اللہ اور رسول کو راضی کرنے کی فکر پہلے کرنی چاہیئے لوگوں کو باتوں کو نہیں سوچنا چاہیئے۔ اور اپنی رزق کی قدر کرنی چاہیئے۔

وعن ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ من بات وفی یدہ غمر لم یغسلہ فاصابہ شیء فلا یلومنّ الا نفسہ ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کسی آدمی کے ہاتھ میں کوئی کھانے کی تری وغیرہ لگی ہو اور وہ اس کو دھوئے بغیر سو جائے اس کو کوئی مصیبت آگئی (کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا )تو پھر اپنے آپ کو ہی ملامت کرے کسی اور کو کچھ نہ کہے۔

ان تمام احادیث درج ذیل نقاط معلوم ہوتے ہیں۔

  • کھانے سے پہلے اور بعد دونوں دفعہ ہاتھوں کو دھونا سنت ہے۔
  • کھانے کے برتن کے کناروں سے کھانا چاہیئے درمیان سے نہیں۔
  • کھانے کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں اگر پہلے سے وضو ہو تو اس وضو سے بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
  • گوشت کو اپنے دانتوں سے کاٹ کو کھانا مستحب ہے چھری کانٹے سے کاٹنا مناسب نہیں۔
  • کھانے کے بعد برتن کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیئے برتن میں کھانا باقی نہیں چھوڑنا چاہیئے۔
Please follow and like us:
0